ممبئی25 ؍اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ایک نجی ٹی وی کے شو میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر تو 6 دسمبر 1992 کی رات کو ہی بن چکا تھا، اب تو صرف اس مندر کو خوبصورت شکل دیا جانا ہے جو کہ جلد ہی کیا جائے گا۔فڑنویس اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ ایودھیا میں رام مندر بنانے کا بی جے پی کا وعدہ کب پورا ہوگا۔ادھو ٹھاکرے کے اس بیان پر کہ وہ خود ایودھیا جاکر مندر کی تعمیر کی تیاری کریں گے کیونکہ بی جے پی ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
فڑنویس نے کہا کہ پہلے تو صرف ہم مندر کی تعمیر کی بات کرتے تھے، اب اگر شیوسینا بھی ایسا کر رہی ہے تو یہ تو اچھی بات ہے۔ فڑنویس نے کہا کہ جمہوری نظام میں ہر کام کا ایک جمہوری عمل ہوتا ہے، رام مندر کا معاملہ کورٹ میں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ عمل مکمل ہو اور کورٹ کے فیصلے سے مندر بنے۔ اس میں غلط کیا ہے۔فڑنویس سے پوچھا گیا کہ اب تک تو بی جے پی 6 دسمبر معاملہ میں اپنا ہاتھ ہونے سے انکار کرتی رہی ہے تو کیا اب اس کا رخ بدل گیا ہے؟ ان کا جواب تھا کہ ہم آج بھی یہی کہتے ہیں کہ اس دن جو ہوا وہ کار سیوکوں نے کیا۔ کار سیوکوں میں تمام پارٹی کے لوگ تھے۔ وہ عوام کی تحریک تھی۔ کروڑوں ہندوستانیوں کی طرح میں بھی چاہتا ہوں کہ ایودھیا میں خوبصورت رام مندر بنے اور جلد بنے۔فڑنویس نے اس موقع پر کانگریس اور این سی پی کی تنقید کی ، جبکہ ریاستی حکومت میں اپنی حلیف پارٹی شیوسینا کے تیکھے تیوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ دونوں پارٹیاں آنے والا لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ساتھ لڑ یں گی اور جیتیں گی ۔انہوں نے کہا بھی کہ 2014 میں یوپی کے بعد مہاراشٹر نے این ڈی اے کو سب سے زیادہ رہنما دیئے تھے۔ 2019 میں بھی ایسے ہی نتائج آئیں گے۔